11 days ago - Translate

بِٹ کوئن میں ہلچل ۔۔۔؟

بٹ کوئن کو متعارف ہوئے دس سال بیت چکے ہیں
کینیڈا کی سب سے بڑی کِرپٹو کرنسی ایکسچینج کواڈریگا کے بانی کی اچانک موت کی وجہ سے کمپنی کروڑوں ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی تک رسائی سے محروم ہو گئی ہے۔

کواڈریگا نے کریڈیٹر پروٹیکشن کے لیے دعویٰ دائر کیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق 18 کروڑ کینیڈین ڈالر مالیت کی کِرپٹو کرنسی غائب ہے۔

کوارڈیگا کے بانی 30 سالہ جیرالڈ کاٹن دسمبر میں اچانک وفات پا گئے تھے اور ان کی موت کے بعد سے کمپنی اپنے کِرپٹو کرنسی کے ذخائر کا اتا پتا معلوم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
کمپنی میں فنڈز اور کِرپٹو کرنسی کو سنبھالنا صرف جیرالڈ کاٹن کی ہی ذمہ داری تھی۔

مزید پڑھیے

’پاکستان میں کریپٹو کرنسی قانونی نہیں، اسے مشکوک مانیں‘

کرپٹو کرنسیاں: ’کالے دھن کو سفید کیا جا رہا ہے‘

کیا شرپا کی موت کا باعث ایورسٹ پر کرپٹو کرنسی؟

31 جنوری کو نووا سکوشیا کی عدالتِ عظمی میں دائر کردہ دستاویزات پر ان کی بیوہ جینیفر رابرٹسن کا کہنا تھا کہ جیریلڈ کاٹن جس لیپ ٹاپ پر ’کمپنی کا کام کیا کرتے تھے وہ خفیہ تھا اور مجھے اس کے پاس ورڈ یا ریکوری کی سے متعلق معلومات نہیں۔‘

حلفیہ بیان کے مطابق ’کئی بار ڈھونڈنے کے باوجود بھی مجھے کہیں بھی وہ پاس ورڈ لکھے ہوئے نہیں ملے۔‘

کواڈریگا نے اس متعلق معلومات کے حصول کے لیے ایک تفتیش کار کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔ تفتیش کار کی کئی کوششوں کے باوجود ’صرف چند سِکوں تک رسائی تک محدود سی کامیابی ہی ملی ہے‘ اور جیرالڈ کوٹن کے کمپیوٹر اور موبائل فون سے بھی کچھ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق کمپنی اس بات کی بھی تحقیق کروا رہی ہے کہ کیا کِرپٹو کرنسی کسی اور ایکسچینج پر بھی محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کواڈریگا کے ایک لاکھ پندرہ ہزار صارفین کے ذاتی اکاؤنٹس میں کِرپٹو کرنسی کی مد میں بقایا جات پڑے ہیں۔

کمپنی کے لگائے گئے اندازے کے مطابق وہ سات کروڑ نقد سمیت لگ بھگ 25 کروڑ کینیڈین ڈالر کی مقروض ہے۔

حلفیہ بیان کہ مطابق کواڈریگا نے کِرپٹو کرنسی کی بڑی تعداد کو آف لائن رکھا تاکہ اسے ہیکنگ اور چوری سے محفوظ رکھا جاسکے۔

برٹش کولمبیا کمپنی کو لیکوئیڈٹی سے متعلقہ مسائل کا سامنا جنوری 2018 میں ہوا جب کینیڈین بینک سی آئی بی سی نے 2.57 کروڑ کینیڈین ڈالر منجمد کردیے۔ یہ رقم ان کی ادائیگیوں کے نظام سے منسلک تھی اور بینک کو اس رقم کے اصل مالکان کی نشاندہی میں خاصی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

جیرالڈ کوٹن کی موت نے ان مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق جیرالڈ کی اچانک موت کروہن کی بیماری میں پیچیدگیوں کے باعث اچانک انڈیا میں سفر کے دوران ہوئی۔

گذشتہ جمعرات انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے بیان میں کواڈریگا نے کہا کہ کوشش جاری ہے کہ’لیکوئڈیٹی سے متعلق معاملات کو پرکھا جائے اور سرد حانے میں موجود کرپٹوکرنسی کے ذخائر کو نہ صرف تلاش کیا جائے بلکہ اس کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔‘

کمپنی کو نووا سکوشیا کی عدالت میں منگل کے روز ابتدائی سماعت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ جس میں ارنسٹ اور ینگ نامی فرم کو عدالتی کارروائی کی آزادانہ نگرانی پر تعینات کیا گیا ہے۔
msfsocial.com